Fatawa Rahimiyah Urdu : تراویح پڑھی اور روزہ نہ رکھا تو

Fatawa Rahimiyah

Fatawa Rahimiyah : Taraweeh Ke Masaail

تراویح پڑھی اور روزہ نہ رکھا تو

سوال – ایک شخص نے تراویح پڑھی اور بلا عذر روزہ نہ رکھا تو اس کی نماز تراویح مقبول ہے یا نہیں؟

الجواب – قبولیت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے، فقہی  یا قانونی لحاظ سے نماز تراویح کو جائز کہا جائے گا۔ کیونکہ نماز تراویح کے جواز کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں، مگر بلا عذر رمضان کا روزہ چھوڑنا ایسا بڑا گناہ ہے کہ اس کی بناء پر تراویح کا ثواب بھی سوخت ہو جائے تو تعجب نہیں، آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے  من افطر یوما من رمضان … الخ  (رواھ اصحاب السنن۔ مشکوٰۃ الشریف باب تنزیھۃ الصوم کتاب الصوم باب تنزیھۃ الصوم صفحہ 177) یعنی جس شخص نے کسی ایسے عذر کے بغیر جو شرعاً معتبر ہو ، (مشلاً مسافر ہو یا بیمار ہو) رمضان شریف کے کسی ایک دن کا روزہ نہ رکھا تو اگر اب عمر بھر بھی روزہ رکھتا رہے تب بھی اس فضیلت کی تلافی نہیں کرسکتا جو ایک دن کا روزہ چھوڑ نے سے فوت ہو چکی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔

فتاویٰ رحیمیہ | جلد ششم | مسائل تراویح | صفحہ  187

Mazeed : Fatawa Rahimiyah  |   Namaz Ke Masaail

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published.