Fatawa Rahimiyah Urdu : بالوں میں خضاب لگانا؟

Fatawa Rahimyah : islami masail

بالوں میں خضاب لگانا؟

سوال – کیافرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ زیل میں، خضاب جو عام طور پر بازار میں ملتا ہے کہا جاتا ہے کہ اس میں تیزاب اور کیمیکل رنگ میں ملاکار بنایا جاتا ہے، خضاب لگانے سے بالوں پر رنگ کی ایک باریک سی تہہ چڑھ جاتی ہے، تو ایسی حالت میں وضو اور غسل ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب – فتاویٰ رحیمیہ جلد ہفتم ص 146 میں اس کے متعلق ایک فتویٰ ہے اس کے آخرمیں تحریر ہے : اگر کسی نے باوجود ناجائز ہونے کے خالص سیاہ خضاب لگایا ہو اور وہ پانی کی طرح پتلا ہو اور خشک ہونے کے بعد بالوں تک پانی پہنچنے کے لئے رکاوٹ نہ بنتا ہو تو اس صورت میں وضو وغسل ہو جائےگا، (مگر خضاب لگارکھاہے اس کا مستقل گناہ ہوگا) اور اگر وہ گاڑھا ہو بالوں تک پانی بہنچنے کے لئے رکاوٹ بنتا ہو تو پھر وضو غسل نہ ہوگا۔ (فتاویٰ رحیمیہ صفحہ 146
جلد 7)

صورت مسئولہ میں اگر آپ کو تجربہ ہو کہ خضاب واقعی طورپر بالوں تک پانی کے پہنچنے کے لئے رکاوٹ بنتا ہے تو مذکورہ جواب کے پیش نظر وضو وغسل صحیح نہ ہوگا۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔

فتاویٰ رحیمیہ | جلد چہارم | کتاب الطھارت | صفحہ 22

Mazeed : Fatawa Rahimiyah urdu

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *