Dwarves : BonoN Ki Duniya – Kya Bone (بونے آدمی) Aaj Bhi Maujood Hain?

dwarves

Dwarves : Urdu Article

بونے آدمی

کیا کرہ ارض پر کبھی کسی بونی نسل کا وجود رہا ہے، کیا آثار قدیمہ کے دریافت کردہ یہ پراسرار بونے روایتی پریاں تھیں؟

ماہرین آثار قدیمہ ایک عرصے سے ان ننھی منّی سرنگوں اور سیڑھیوں کو دیکھ کر متحیر ہیں جو سکومان اور جنوبی امریکہ کے دوسرے شہروں کے کھڈرات سے دریافت ہوئی، یہ سرنگیں بہت تنگ ہیں، دروازے اتنے چھوٹے ہیں کہ ان میں ایسے آدمیوں کا داخلہ بھی ممنوع ہوگا جنہیں ہم “بالشتئے” کہتے ہیں۔

اس کے باوجود اس بات کا وضح ثبوت موجود ہے کہ یہ دروازے اور سرنگیں اکثر استعمال کی جاتی تھیں کیوں کہ جس سخت پتھر کو تراش کر یہ راستہ بنایا گیا تھا وہ نمایاں حد تک کھسا ہوا تھا، یہ کون لوگ تھے؟ کس جگہ سے آئے تھے اور ان کا کیا حشر ہوا؟

آج کے اس دور میں ہمارے لئے ان سوالوں کا جواب دینا سخت مشکل ہے، اگر چہ ان کے وجود سے متعلق ہمارے پاس محیرالعقول شہادتیں موجود ہیں، مثلاً وہ تنگ سرنگ ہے جو ٹھوس چٹانوں کے اندر کئی میلوں تک کھودی گئی تھی، اور بار بار کے استعمال سے کھس گئی تھی۔

دنیا کے مختلف حصوں میں ثبوت

دنیا کے مختلف حصوں سے چند ایسے آثار دستیاب ہوئے ہیں جو بونے آدمیوں کے وجود کی تصدیق کرتے ہیں، ان میں ہاتھی دانت کے وہ خوبصورت مرصع ٹکڑے بھی ہیں جو جزیرہ ایلبوٹن کے شہر شمیا میں دریافت ہوئے تھے اور جنہیں “بونوں کے چقماق” کا نام دیا گیا تھا۔

یہ ٹکڑے تیر کی انی کی طرح ہیں اور لمبائی میں بمشکل نصف اینچ ہوں گے، ان کی شکل شباہت سے صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کسی انسانی ہاتھ نے تراشاہے۔
اگر چہ یہ بونی مخلوق مدتوں سے فنا ہوگئی ہے، تاہم اس امر کی واضح شہادتیں موجود ہیں کہ وہ لوگ کوتاہ قد تھے، اس زمانے میں بھی دنیا کے مختلف حصوں میں بونے لوگوں کا وجود پایا جاتا ہے، افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والے ایک قبیلہ کے تمام آدمیوں کے قد چار فٹ سے زیادہ نہیں ہیں۔

اگر چہ ان کے اعضا پوری طرح نشو ونما پائے ہوئے ہیں، اسی طرح آسٹریلیا میں بھی ایک ایسا قبیلہ موجود ہے جن کے قد پانچ فٹ سے بھی کم ہیں، اگر چہ ان میں بونے آدمی بھی موجود ہیں جو شاید کسی بیماری یا ناقص غذا کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔

بونوں کی اقسام

ان بونوں کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، اول ٹھگنے قسم کے لوگ (جن کا جسم اور سر نورمل ہوتا ہے لیکن بازو اور ٹانگیں چھوٹی ہوتی ہیں) دوم بالشتئے جن کے اعضا متناسب لیکن عام لوگوں سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں، ان بونوں میں سے بعض تو تاریخی اہمیت کے حامل ہیں، مثلاً ینپلز کے چارلس سوم اور پیپن اور ٹورز کے گرے جوری ، یورپ کا “اٹیلا” بونا تھا، حسین پاشا جس نے ریاستی اصلاحات کو عام کیا بالشتیا تھا، مشہور افسانہ نگار السیوپ کا قد 3.5 فٹ سے بھی کم تھا لیکن ان کے نو9 کے نو9 بچے صحت مند اور نورمل تھے۔

1742 میں ایک مشہور سنار روبرٹ سکزکی شادی ہوئی خاوند اور بیوی دونوں کا قد تیس اینچ (اڑھائی فٹ) تھا، ان کے ہاں چودہ ہٹے کٹے اور نورمل قد کے بچے پیدا ہوئے، چار سال کی عمر میں تمام بچوں کا قد اپنے والدین کے قد کے برابر تھا۔

امریکہ کا مشہور ترین بالشتیا برگی پورٹ کا “چارلس سٹیون” تھا، جس کی نشو ونما پیدائش کے پانچویں مہینے ہی رک گئی تھی، اس وقت اس کا قد 21 اینچ تھا، مشہور بازی گر پیٹی برام نے ٹوم تھمب کے نام سے اس کی نمائش کر کے بے شمار دولت اکٹھی کی۔

روبرٹ سکو کی طرح “ٹوم تھمب” کی شادی لوی ناوارن سے ہوئی جس کا قد ٹوم تھمب کے برابر تھا، اس دلچسپ شادی کی باز گشت دس سالوں تک سنائی دیتی رہی، یہ ننھا منّا جوڑا صدر لنکن اور ان کی بیگم سے وہائٹ ہؤس میں ملا، اس سے ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا۔

سب سے بونے قد کی خاتون

شاید عوام میں سب سےزیادہ بونے قد کی خاتون میکسیکو کی نوسیازیرٹ تھی، جس کا قد بیس سال کی عمر میں 17.5 اینچ اور وزن 113 پونڈ تھا، اسے عام قالین کے نمدے میں امریکہ سمگل کیا گیا تھا۔

جس طرح بعض آدمیوں کا مشغلہ تصویریں جمع کرنا ہوتا ہے اس طرح سید ناعیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے پہلے چند رومی بادشاہوں کا مشغلہ “بونے” جمع کرنے کاتھا، کارڈی نال وٹی لا نے 1566 میں روم میں ایک دعوت کا انتظام کیا جس میں 34 بونے مہمان خصوصی تھے۔

1710 میں پطرس اعظم کے پاس 72 بونے تھے، جنہیں وہ کسی شادی کے موقع پر آرائش کے لئے استعمال کرتاتھا، مشہور انگریز بالشتیا “جیوفری ” کا قد30 سال کی عمر میں 18 انچ تھا۔

ناقابلِ یقین سچائیاں 30 – 33

 Mazeed :  Urdu Articles   |   Hairat Angez

اگر آپ کو ہمارا یہ مضمون پسند آیا ہو تو براہ کرم اسے share کیجیے اور اپنے احباب تک پہنچائیے۔ شکریہ.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published.