Fatawa Rahimiyah Urdu : اذان جمعہ کے بعد غیر مسلم ملازم کو دکان پر بٹھانا

Juma Ke Masaail

Juma Ke Masaail : Juma Ki Azaan Ke Bad Dukan Khuli Rakhna

سوال – جمعہ کی اذان سے پہلے میں مسجد چلا جاتا ہوں مگر دوکان کھلی رہتی ہے، غیر مسلم ملازم مال فروخت کرتا ہے، اس میں کوئی قباحت ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب – غیر مسلم ملازم جس پر اذان جمعہ سن کر سعی واجب نہیں ہے وہ آپ کی دوکان کھلی رکھے تو ناجائز نہیں ہے، وقد خص منہ من لاجمعۃ علیہ ذکرہ المصنف (درمختار) والحاصل ان لدلیل خص من وجوب السعی جماعۃ کالمریض والمسافر … الخ۔ (شامی جلد 4 صفحہ 182 باب بیع الفاسد تحت وطلب فی البیع المکروہ)

لیکن احتیاط اور جمعہ کی فضیلت کا تقاضہ یہ ہے اذان اول کے ساتھ دوکان بند کردی جائے تا کہ غافل قسم کے لوگوں کو اس سے غلط فہمی نہ ہو، دوکان بند رکھنے میں جمعہ کے دن کی عظمت اور شان وشوکت میں اضافہ ہوگا، مدارس اسلامیہ بھی بند رہتے ہیں، تو اگر ایک گھنٹہ دوکان بند رہے گی تو کیا نقصان ہوجائےگا، ذالکم خیر لکم ان کنتم تعلمون (سورۃ جمعہ پارہ نمبر 28) فقط واللہ اعلم۔

فتاویٰ رحیمیہ | جلد ششم | باب الجمعۃ والعیدین | صفحہ 82

اگر آپ کو ہماری یہ کوشش پسند آئے تو برائے کرم اس مضمون کو اپنے احباب کے ساتھ واٹس ایپ پر ضرورشیئر کریں . جزاک اللہ خیر!

Mazeed : Fatawa Rahimiyah  |  Mehfil e Shayari

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published.