Farishton Ke Halaat : Hazrat Musa (Moses) Aur Malik ul Maut

Farishton Ke Halaat

Farishton Ke Halaat Urdu Hazrat Musa Aur Malik ul Maut

حضرت موسیؑ اور ملک الموتؑ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : حضرت ملک الموت لوگوں کےسامنے (روح قبض کرنے) آجاتے تھے (اسی طرح) وہ موسی علیہ السلام کے پاس بھی آگئے تو حضرت موسیؑ نے انہیں تھپڑ رسید کردیا جس سے ان کی آنکھ پھوٹ گئی تو وہ اپنے رب تعالی کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا اے پروردگار! آپ کے بندے موسی نے میری آنکھ پھوڑدی اگر وہ آپ کے نزدیک صاحبِ اکرام نہ ہوتے تو میں بھی بدلہ چکا دیتا.

(اللہ تعالیٰ نے) اسے حکم فرمایا تو میرے بندے کے پاس جا اور اسے کہہ کہ وہ اپنا ہاتھ ایک بیل کے چمڑے پر رکھدے جتنے بلوں کو اس کا ہاتھ چھپا لےگا اتنے سال اس کو موت نہیں آئے گی، تو وہ آیا ـ (اور وہ سب کچھ عرض کردیا) تو انہوں نے فرمایا اس کے بعد کیا ہوگا؟ عرض کیا موت ہوگی، فرمایا پھر تو ابھی قبض کرلو، تو اس نے ایک دم ان کو سونگھا اور ان کی روح قبض کرلی، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ بھی درست کردی بس اس کے بعد سے وہ (ملک الموت) لوگوں کے پاس چھپ کر آتا ہے۔

فائدہ:

یہ حدیث بخاری اور مسلم میں بھی مروی ہے مگر مذکورہ روایت میں چند باتوں کا اضافہ ہے اس لئے علامہ سیوطی نے اس کو نقل فرمایا ہے، حضرت موسی علیہ السلام نے ملک الموت کو اس لئے تھپڑ مارا تھا کہ انسان کی شکل میں حضرت موسیؑ کے گھر میں داخل ہوئے تھے، حضرت موسیؑ یہ تو نہ جانتے تھے کہ یہ انسان نہیں فرشتہ ہیں، انہوں نے بھی اسے انسان سمجھا جس طرح حضرت ابراہیمؑ اپنے مہمان بننے والے فرشتوں کو انسان سمجھ کر بچھڑا بھون لائے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام فرشتوں کو انسان سمجھ کر اپنی قوم سے ان کے بارے میں خوف کررہے تھے، اگر وہ ان کو پہچان لیتے تو کبھی خوف نہ کھاتے۔

مسلمان کے گھر میں جھانکنے والے کی سزا

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مسلمان کے گھر میں بلا اجازت جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ نے کو مباح فرمایا ہے، تو اس صورت میں ملک الموت کی آنکھ پھوڑنے پر حضرت موسیؑ پر کوئی اعتراض نہیں پڑتا، اور اگر شریعت موسوی میں یہ حکم نہ ہوتو بھی اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کا قصاص اس لئے نہ لیا کہ ملک الموت نے ان سے اپنا حق قصاص (بدلہ) طلب نہیں کیا اس لئے قصاص نہیں لیا گیا.

یا یہ کہ جو انکھ پھوٹی تھی وہ صورت انسانی کی آنکھ تھی جس میں ملک الموت تشریف لائے تھے اس میں صورت مَلکی کو کوئی گرند نہیں پہنچا تھا، جس پر قصاص واجب ہوتا، یا یہ کہ موسیؑ نے اپنے گھر اور اہل خانہ سے مدافعت کے طور پر مارا تھا اور وہ بھی ان کو آدمی جان کر، اسی لئے ملک الموت نے کوئی مقابلہ نہ کیا، اور اس لئے بھی کہ قصاص میں برابری واجب ہے جو یہاں موجود نہیں کیونکہ ملک الموت کی جو آنکھ پھوڑی گئی تھی وہ صورت مثالیہ تھی اگر اس کا قصاص ہوتا تو اس میں حضرت موسیؑ کی حقیقی آنکھ جاتی جو جائز نہیں۔

اجازت کیوں نہ مانگی؟

اگر یہ کہا جائے کہ ملک الموت نے حضرت موسیؑ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت کیوں نہ مانگی؟ تو جواب یہ ہے کہ اس شکل میں حضرت موسیؑ کا امتحان مقصود تھا یہ بات پہلے گزر چلی ہے کہ ملک لاموتؑ حضرت ابراہیمؑ کے گھر میں داخل ہوئے تو حضرت ابراہیمؑ نے جلدی نہ کی بلکہ حقیقت معلوم کی کیونکہ حضرت ابراہیمؑ بردبار تھے، اور موسیؑ نے مارنے میں جلد کی کیونکہ ان میں تیزی تھی، اس لئے بھی ملک الموتؑ نے اجازت نہ طلب کی کیونکہ اجازت آدمیوں کے ساتھ مخصوص ہے اس لئے کہ ان میں آپس میں پردہ اور راز کے احوال ہوتے ہیں، جن کو وہ ایک دوسرے سے پوشیدہ رکھتے ہیں.

تو ان کے لئے تو اجازت طلب کرنا مشروع ہوا تاکہ کوئی اپنے بھائی کی کسی ناپسندیدہ حالت پر مطلع نہ ہو، جبکہ فرشتوں سے انسانوں کی کوئی شے مخفی نہیں ہوتی بہت سے فرشتے ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ ہر وقت یا بعض وقت موجود رہتے ہیں، جیسے محافظین، قرآن سننے والے اور مجلس ذکر میں شریک ہونے والے، بلکہ ملک الموت بھی جب اس نے آنحضرت ﷺ سے اجازت طلب کی اور اس کے ساتھ حضرت جبرائیلؑ بھی تھے تو انہوں نے عرض کیا اے رسول اللہ (ﷺ) ملک الموت نے آپ کے علاوہ کسی سے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب نہیں کی، اور جب اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا کہ موسیؑ کے پاس جاؤ تو انہیں بھی حضرت موسیؑ سے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہ رہی تھی۔ frishton ke haalat

فرشتوں کے عجیب حالات : 107 – 109

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published.