Fatawa Rahimiyah Urdu : زکوٰۃ کی امانت خرچ کر کے اپنے پیسوں سے ادا کر دے تو؟

Fatawa Rahimiyah Urdu

Fatawa Rahimiyah Urdu

زکوٰۃ کی امانت خرچ کر کے اپنے پیسوں سے ادا کر دے تو؟

سوال – ایک شخص نے اپنی زکوٰۃ کی رقم دوسرے شخص کو دی، اور مقصد یہ ہے کہ تم یہ رقم اپنے پاس رکھو جب کوئی شخص میرا رقعہ لے کر آئے یا تم کو کوئی مستحق ملے تو تم اس رقم میں سے دے دینا، وہ شخص زکوٰۃ کی رقم پہلے اپنے کام میں خرچ کرڈالے اور بعد میں اپنی رقم دیتارہے تو یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ مؤکل کی زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں؟ بینوا توجرا۔

الجواب – یہ طریقہ غلط ہے اس طرح کرنے سے اس شخص کی (یعنی مؤکل کی) زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، جس شخص کو زکوٰۃ کی رقم برائے تقسیم دی گئی ہے اسے چاہئے کہ وہی رقم محفوط رکھے اور اسی رقم سے تقسیم کرتا رہے، البتہ کسی وقت کوئی مستحق مل جاوے اور زکوٰۃ کی رقم اپنے پاس موجود نہ ہو اور وہ شخص اس نیت سے اپنی رقم دےدے کہ زکوٰۃ کی محفوظ رقم میں سے اتنی رقم وصول کرلوں گا تو یہ صورت جائز ہے،

اور اگر وصول کرنے کی نیت کے بغیر اپنی رقم دےدے تو اس صورت میں بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، اور وہ شخص متبرع کہلائےگا، اس کو اس کاثواب ملےگا۔ (یعنی مؤکل کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی لیکن وکیل کو اپنی جانب سے رقم دینے کا ثواب میلےگا)

درمختار میں ہے: ولوتصدق (الوکیل) بدراھم نفسہ اجراً ان کان علی نیۃ الرجوع وکانت درا ھم المؤکل قائمۃ (درمختار)

شامی میں ہے: (قولہ ولو تصدق الخ) ای الو کیل بدفع الزوکاۃ ازا امسک دراھم المؤکل ودفع من مالہ۔۔۔ الخ۔ (درمختار وشامی صفحہ 15 جلد 2 کتاب الزکوٰۃ)

بہشتی زیور میں ہے- مسئلہ: کسی غریب کو دینے کے لئے تم نے دو روپے کسی کو دئے لیکن اس نے بعینہ وہ روپے فقیر کو نہیں دئے جو تم نے دئیے تھے بلکہ اپنے پاس سے دو روپیہ تمہاری طرف سے دے دئیے اور یہ خیال کیا کہ وہ روپے میں لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا ہوگئی بشرطیکہ تمہارے روپے اس کے پاس موجود ہوں اور اب وہ شخص اپنے وہ روپے کے بدلہ میں تمہارے وہ دونوں روپے لے لیوے، البتہ اگر تمہارے دئیے ہوئے دو روپے اس نے پہلے خرچ کر ڈالے اس کے بعد اپنے روپے غریب کو دئیے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی ، یا تمہارے روپے اس کے پاس رکھے تو ہیں لیکن اپنے روپے دیتے وقت یہ نیت نہیں تھی کہ میں وہ روپے لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، اب وہ دونوں روپے پھر زکوٰۃ میں دے وے۔ (بہشتی زیور صفحہ 33 تیسرا حصہ ، زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان) فقط واللہ اعلم بالصواب۔

فتاویٰ رحیمیہ | جلد ہفتم | کتاب الزکوٰۃ 147

Mazeed : Fatawa Rahimiyah

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published.