Islami Waqiat Urdu : حضورؐ کے جسد اطہر کی چوری کا واقعہ

Islami Waqiat Urdu

Islami Waqiat Urdu :  جسد اطہر کی چوری کی کوشش

حضورؐ کے جسد اطہر کی چوری کا واقعہ

تاریخ مدینہ میں ایک عجیب وغریب واقعہ پڑھا، لکھا ہوا تھا کہ حضورﷺ کی وفات کے چند صدی بعد دوشخص مدینہ میں حضور اقدسﷺ کے جسد اطہر کو نکالنے آئےتھے، مسجد نبوی ﷺ کے پاس ایک مکان کرایہ پر لے رکھا تھا اور وہ دن بھر نماز وتسبیح میں مشغول رہتے تھے، لوگ ان کے معتقد بھی ہوگئے تھے، وہ کم بخت رات کے وقت (سرنگ کھودتے اور) اس مکان سے قبر کی مٹی مدینہ سے باہر پھینک آتے تھے، اور جگہ برابر کردیتے تھے تا کہ کسی کو پتہ نہ ہو اور شبہ تک بھی نہ ہو۔

خواب میں حضور ﷺ کی زیارت

کئی ہفتوں تک وہ لوگ سرنگ کھودنے میں مشغول رہے جب ادھر ان لوگوں نے یہ کام شروع کیا تو حق تعالیٰ نے اس زمانے کے سلطان (نورالدین زنگیؒ) کو بذریعہ خواب متنبہ کردیا، اس سلطان نے خواب میں حضور ﷺ کی زیارت کی اور دیکھا کہ آپؐ کے چہرے اطہر پر حزن اور غم کے آثار ہیں اور آپؐ اس بادشاہ کا نام لیکر فرمارہے ہیں کہ مجھے ان دوشخصوں نے بہت ایذاء دے رکھی ہے، جلد از جلد مجھے ان سے نجات دو، خواب میں دونوں کی صورت بھی بادشاہ کو دکھلائی گئی.

خواب سے بیدار ہو کر بادشاہ نے وزیر سے اس خؤاب کا تذکرہ کیا وزیر نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ میں کوئی حادثہ پیش آگیا ہے، لہٰذا آپ جلد از جلد مدینہ تشریف لے جائیں، بادشاہ فوراً فوج اپنے ساتھ لیکر بہت تیزی کے ساتھ مدینہ کی طرف سفر کیا اور مدینہ پہنچے.

بادشاہ نے سب کی دعوت کی

اس عرصے میں وہ لوگ کافی حد تک سرنگ کھود چکے تھے، اور بالکل جسد اطہر کے قریب پہنچ چکے تھے، ایک دن کی بھی اگر بادشاہ کو تاخیر ہوجاتی تو وہ لوگ اپنا کام پورا کر لیتے، چنانچہ بادشاہ نے مدینہ پہنچ کر تمام لوگوں کو جمع کروایا اور مدینہ سے باہر ان سب کی دعوت کی اور سب کو مدینہ کے ایک خاص دروازے سے نکالنے کا حکم دیا گیا اور خؤد دروازے پر کھڑے ہوکر ہر شخص کو غور سے دیکھتا جاتا تھا.

یہاں تک کہ مدینہ کے سب مرد شہر سے باہر نکل گئے مگر وہ دو شخص ان سب مردوں میں نہیں تھے، جن کو بادشاہ نے خواب میں دیکھا تھا.

بادشاہ کو سخت حیرت ہوئی اور لوگوں سے کہا کہ کیا سب لوگ باہر آچکے ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ اب کوئی اندر نہیں رہا، بادشاہ نے کہا یہ ہر گز نہیں ہوسکتا ضرور کوئی اندر رہا ہے لوگوں نے کہا ہاں! دو زاہد متقی پرہیزگار اندر رہ گئے ہیں، جو نہ کسی سے کچھ لیتے ہیں اورنہ ہی کسی کی دعوت میں جاتے ہیں اور نہ کسی سے ملتے ہیں بادشاہ نے کہا کہ مجھے تو انہی سے کام ہے.

آخر کار پکڑے گئے

چنانچہ جب انہیں پکڑ کر لایا گیا تو بعینہی وہ دو صورتیں تھیں جو خواب میں بادشاہ کو دکھائی گئیں تھی، بادشاہ نے فوراً پہچان لیااور ان کو قید کرلیا گیا، اور پوچھا گیا کہ تم نے حضورﷺ کو کونسی ایذا پہنچائی ہے؟ چنانچہ کافی پوچھ کھاچ کے بعد انہوں نے اقرار کیا کہ ہم نے حضورؐ کے جسد اطہر نکالنے کے لئے سرنگ کھودی ہے.

جب بادشاہ نے سرنگ دیکھی تو معلوم ہوا کہ سرنگ آپؐ کے قدم مبارک تک پہنچ چلی ہے، بادشاہ نے آپ کے قدم مبارک کو بوسہ دیا اور سرنگ بند کروادی گئی، اس کے بعد بادشاہ نے ایسا کیا کہ قبر مبارک کے چاروں طرف سے زمین کو پانی کی تہہ تک کھدواکر اس میں سیسہ پگھلا کر بھر دیا گیا، تا کہ آئندہ کوئی سرنگر نہ لگا سکے۔

(نوٹ) کہا جاتا ہے کہ اس بادشاہ کا نام نورالدین زنگیؒ تھا، اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ مخالفین کو بھی جسد اطہر کے صحیح وسلامت ہونے کا ایسا پختہ اعتقاد ہے جس کی وجہ سے کئی سو برں بعد بھی جسد اطہر کو نکالنے کی کوشش کی گئی، اگر ان کو جسد اطہر محفوظ ہونے کا یقین نہ ہوتا تو وہ سرنگ کیوں کر لگاتے.

وہم وشبہ کی وجہ سےاتنا بڑا خطرے والا کام کوئی نہیں کرتا، وہ لوگ اہل کتاب ہیں وہ بھی خوب سمجھتے ہیں نبی کے جسم کو زمین نہیں کھاسکتی وہ خوب جانتے ہیں نبی کریم ﷺ برحق تھے، بوجہ عناد کے اقرار نہیں کرتے۔ (تاریخ مدینہ)

Mazeed : Urdu Articles  |  Islami Waqiat

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published.