Fatawa Rahimiyah : Namaz e Istekhara Ka Sahi Tariqa Aur Dua | Urdu

Namaz e Istekhara

Namaz e Istekhara Ka Tariqa Aur Dua

نماز استخارہ کی اہمیت، اس کی دعا اور طرقیہ

سوال – نماز استخارہ کا کیا طریقہ ہے؟ کیا استخارہ حدیث سے ثابت ہے؟ استخارہ کتنے دنوں تک کرنا چاہئے؟ او راستخارہ میں دل کا میلان کافی ہے یا خواب میں کچھ دیکھنا ضروری ہے؟۔ بینوا تو جروا۔

الجواب – جی ہاں جب کسی کام کا ارادہ ہو تو استخارہ کرنا حدیث سے ثابت ہے، اور حدیث میں اس کی بہت ترغیب آئی ہے، بہشتی زیور میں ہے: مسئلہ جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرےتو اللہ میاں سے صلاح لیوے، اس صلاح لینے کو استخارہ کہتے ہیں، حدیث میں اس کی بہت ترغیب آئی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ سےصلاح نہ لینا اور استخارہ نہ کرنا بدبختی اور کم نصیبی کی بات ہے، کہیں منگنی کرے یا بیاہ کرے یا سفر کے یا کوئی اور کام کرے تو استخارہ کرے تو انشاء اللہ کبھی اپنے کئے پر پشیمان نہ ہوگی۔ (بہشتی زیور صفحہ 37 دوسرا حصہ، استخارہ کی نماز کا بیان)

حدیث میں ہے:

عن جابر بن عبداللہ قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعلمنا الا ستخارۃ فی الامور کلھا … الخ۔ (ترمذی شریف جلد 1 صفحہ 63 باب ماجاء فی صلوٰۃ الاسخارۃ) ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تمام کاموں میں ہمیں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے جس طرح ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو دورکعت نماز فرض نماز کے علاوہ پڑھے، پھر یہ دعاء پڑہے،

Namaz e Istekhara Ki Dua

اللھم انی استخیرک بعلمک واستقدرک بقدرتک واسئلک من فضلک العظیم فانک تقدر ولا اقدر وتعلم ولا اعلم وانت علام الغیوب اللھم ان کنت تعلم ان ھذا الامرخیر لی فی دینی ومعیشتی (ومعاشی) وعاقبۃ امری فاقدرہ لی ویسرہ لی ثم بارک لی فیہ وان کنت تعلم ان ھذا الا مرشرلی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ امری فاصرفہ عنی واصرفنی عنہ واقدر لی الخیر حیث کان ثم ارضنی بہ۔

ترجمہ: اے اللہ میں آپ سے خیر چاہتا ہوں بوجہ آپ کے علم کے اور آپ سے قدرت طلب کرتا ہوں بوجہ آپ کی قدرت کے اور مانگا ہوں میں آپ کے بڑے فضل میں سے کیونکہ آپ قادر ہیں اور میں قادرنہیں ہوں اور آپ عالم ہیں میں عالم نہیں ہو، اے اللہ اگر آپ کے علم میں ہو کہ یہ کام (جس کام کے لئے استخارہ کر رہا ہوں اس کا دھیان کرے) میرے لئے بہتر ہے میرے دین میں اور میری معاش میں اور میرے انجام کار میں تو اس کو میرے لئے تجویز کردیجئے اور اس کو میرے لئے آسان کردیجئے پھر برکت دیجئے اس میں میرے لئے، اور اگر آپ کے علم میں ہو کہ یہ کام میرے لئے برا ہے میرے دین میں اور میری معاش میں اور میرے انجام کار میں تو اس کو مجھ سے ہٹا دیجئے اور جمھ کو اس سے ہٹا دیجئے اور مجھے بھلائی (خیر) نصیب کردیجئے جہاں کہیں مبھی ہو پھر مجھ کو اس پر راضی رکھے۔ (شامی جلد 1 صفحہ 642 مطلب فی رکعتی الاستخارہ باب الوتر والنوافل) (بہشتی زیور صفحہ37 دوسرا حصہ)

اگر ایک دن میں کچھ معلوم نہ ہو اور شرح صدر نہ ہو تو دوسرے دن پھر یہی عمل کرے اس طرح سات دن تک کرے، انشاء اللہ اس کام کی اچھائی یا برائی معلوم ہو جائے گی، خواب دیکھنا ضروری نہیں ہے، اصل چیز دل کا میلان ہے، اگر چہ گاہے خواب کے ذریعہ بھی رہنمائی ہو جائی ہے، اگر کسی وجہ سے نماز پڑھنامتعذر (ناممکن) ہو تو صرف مذکورہ دعاء پر بھی اکتفاء کیا جا سکتا ہے، مناسب یہ ہے کہ نماز استخارہ میں پہلی رکعت میں سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب۔

فتاوی رحیمیہ جلد ششم متفرقات الصلوٰۃ صفحہ 37-38

Mazeed : Fatawa Rahimiyah

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published.