Nabi ﷺ ki Shaan me Qur’aan ki ek Azeem Gawahi | اردو

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

🇬🇧 Read this article in English  |  🇮🇳 इसे हिन्दी में पढ़ें

نبی کریم ﷺ کی شان میں قرآنِ مجید کی ایک عظیم گواہی

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بلند مقام، عظیم اخلاق اور آپ ﷺ کی رحمت و شفقت کا ذکر فرمایا ہے۔ انہی میں سے ایک نہایت عظیم اور دلوں کو ایمان کی تازگی بخشنے والی آیت سورۂ توبہ (آیت 128) ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب رسول ﷺ کی ایسی صفات بیان فرمائی ہیں جو ہر مسلمان کے دل میں آپ ﷺ کی محبت، عقیدت اور احترام کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

وہ مبارک آیت

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ:

“بلاشبہ تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول تشریف لائے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان پر بہت شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے بے حد خواہش مند ہیں اور اہلِ ایمان پر نہایت شفیق، بے حد مہربان ہیں۔”

(سورۂ توبہ: 128)

“رَءُوف” اور “رَّحِيم” کا مفہوم

اس مبارک آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کے لیے دو نہایت عظیم اوصاف بیان فرمائے ہیں۔

رَءُوف (رَءُوفٌ) کا مطلب ہے بے حد شفیق، نہایت نرم دل اور لوگوں کی تکلیف کو محسوس کرنے والے۔

رَّحِيم (رَّحِيمٌ) کا معنی ہے انتہائی مہربان، رحم فرمانے والے اور اپنی امت کی خیر خواہی کرنے والے۔

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اپنی امت کی ہدایت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور نجات کی فکر فرمایا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ انسانیت کی بھلائی، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت اور لوگوں کو سیدھے راستے پر لانے کی جدوجہد سے عبارت ہے۔

اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی عظمتِ شان

اس مبارک آیت میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے محبوب رسول ﷺ کی شان بیان فرمائی ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کی تکلیف سے رنجیدہ ہوتے ہیں، ان کے لیے آسانی چاہتے ہیں اور ان کی بھلائی کے سب سے زیادہ خواہش مند ہیں۔

مؤمنوں کے لیے آپ ﷺ کی شفقت اور رحمت اس قدر عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو “رَءُوف” اور “رَّحِيم” جیسے عظیم اوصاف سے یاد فرمایا۔ یہ اعزاز آپ ﷺ کے بلند مقام اور اپنی امت سے بے مثال محبت کی واضح دلیل ہے۔

اس آیت سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

یہ آیت ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے حقیقی محبت صرف زبانی دعوے کا نام نہیں، بلکہ آپ ﷺ کی سنتِ مبارکہ پر عمل کرنا، آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنانا اور اپنی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالنا ہی سچی محبت کی علامت ہے۔

اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ ہم دوسروں پر رحم کریں، ان کی خیر خواہی کریں، آسانی پیدا کریں اور اپنے اخلاق کو نبی کریم ﷺ کے اخلاق کے مطابق بنانے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی اس مبارک آیت کا عملی پیغام ہے۔

خلاصۂ کلام

سورۂ توبہ کی آیت 128 صرف ایک قرآنی آیت نہیں بلکہ رسولِ اکرم ﷺ کی اپنی امت کے ساتھ بے مثال محبت، شفقت، خیر خواہی اور رحمت کا روشن ترین مظہر ہے۔

ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس آیت کو محبت و عقیدت کے ساتھ پڑھے، اس کے معنی پر غور کرے، اس کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سنتِ مبارکہ پر عمل کرنے کی بھرپور کوشش کرے۔ یہی اس عظیم آیت کا حقیقی پیغام اور مسلمانوں کے لیے بہترین رہنمائی ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *